باب اول: باتھ روم کی دعوت
شام کا وقت تھا، گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ رحیم، ایک تنومند اور بااختیار آدمی، باتھ روم میں نہا رہا تھا۔ گرم پانی کی بھاپ سے شیشے دھندلائے ہوئے تھے، اور اس کی گہری آواز گونجی جب اس نے اپنی بیوی، شازیہ، کو پکارا۔
'شازیہ! ذرا جلدی سے کامران کو یہاں بھیجو۔ مجھے اس سے کچھ بات کرنی ہے،' رحیم نے کہا، اس کی آواز میں ایک عجیب سی شدت تھی جو شازیہ کے کانوں میں گونجی۔
شازیہ، ایک مضبوط اور خودمختار عورت، کچن میں کھانا بنا رہی تھی۔ اس نے چولہے کی آگ کم کی اور ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، 'رحیم، تمہارا یہ 'بات کرنا' تو سب کو پتا ہے۔ کامران کو بھیجتی ہوں، لیکن یاد رکھو، میں بھی زیادہ دیر باہر نہیں رہوں گی۔'
اس کی آواز میں چھپی شرارت رحیم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آئی۔ 'جلدی کرنا، شازیہ۔ آج رات ہم سب مل کر مزہ کریں گے،' اس نے کہا، پانی کی آواز کے ساتھ اس کی ہنسی گونج اٹھی۔
شازیہ نے کامران کو آواز دی، جو اپنے کمرے میں فون پر مصروف تھا۔ 'کامران، ذرا بابا کے پاس باتھ روم میں جاؤ۔ انہوں نے تمہیں بلایا ہے،' اس نے کہا، اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی جو کامران سے چھپی نہ رہی۔
کامران، ایک جوان اور توانا لڑکا، نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور ایک شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، 'امی، آپ بھی تو جانتی ہیں کہ بابا کی 'بات' کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ آپ کیوں نہیں آتیں ساتھ؟'
شازیہ نے ہنس کر اس کے سر پر ہلکا سا تھپکی دی۔ 'جاؤ، میں بس کچن کا کام ختم کر کے آتی ہوں۔ آج رات کوئی نہیں بچے گا،' اس نے وعدہ کیا، اس کی آواز میں ایک واضح چیلنج تھا۔
کامران باتھ روم کے دروازے پر پہنچا، اس کا دل دھڑک رہا تھا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، اور رحیم کی آواز آئی، 'اندر آ جاؤ، بیٹا۔ دروازہ کھلا ہے۔'
اندر داخل ہوتے ہی گرم بھاپ نے اسے گھیر لیا۔ رحیم ننگا کھڑا تھا، اس کا جسم پانی سے چمک رہا تھا۔ 'آؤ، کامران۔ آج ہم باپ بیٹے مل کر کچھ نیا تجربہ کرتے ہیں،' رحیم نے کہا، اس کی آنکھوں میں ایک وحشیانہ چمک تھی۔
کامران نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کیے، اس کا جسم پہلے ہی جوش سے بھر چکا تھا۔ 'بابا، آپ کی ہر بات ماننے کو تیار ہوں، لیکن یہ بتاؤ کہ آج کا پلان کیا ہے؟' اس نے پوچھا، اس کی آواز میں تجسس اور جوش دونوں تھے۔
رحیم نے ہنس کر کہا، 'پہلے تو میرے ساتھ نہاؤ، پھر دیکھتے ہیں کہ رات کہاں لے جاتی ہے۔ شازیہ بھی جلد آ جائے گی، اور پھر ہم تینوں مل کر اس رات کو یادگار بنا دیں گے۔'
پانی کی آواز، ان کی ہنسی، اور بھاپ سے بھرے ماحول میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ کامران کا جسم گرم ہو چکا تھا، اور رحیم کی آنکھوں میں جو خواہش تھی، وہ اب واضح ہو رہی تھی۔ دونوں قریب آئے، ان کے جسموں سے پانی ٹپک رہا تھا، اور فضا میں ایک شدید جنسی تناؤ چھا گیا۔
(جاری ہے...)
Want to know how it ends?
This is just the opening chapter. Continue the saga — or write a steamy tale starring you.