باب اول: دل کی بےچینی
میں علیشا ہوں، چھبیس سال کی، گوجرانوالہ کی تنگ گلیوں میں پلنے والی ایک لڑکی۔ ہمارا گھر، ایک عام پاکستانی گھر جیسا ہے، جہاں خاندان کی عزت اور رشتوں کی حدود بڑی اہم ہیں۔ لیکن میرے دل میں ایک ایسی آگ جل رہی ہے جو نہ بجھتی ہے، نہ چھپتی ہے۔ یہ آگ میرے سوتیلے بھائی، سعد کے لیے ہے۔ سعد، جو ابھی اٹھارہ کا ہوا ہے، لیکن اس کی آنکھوں میں وہ معصومیت نہیں جو چھوٹے بھائیوں میں ہوتی ہے۔ وہ مجھے 'علیشا آپی' کہتا ہے، لیکن اس کے لہجے میں کبھی کبھی ایک ایسی گرمی ہوتی ہے جو میری رگوں میں دوڑ جاتی ہے۔
آج صبح میں کچن میں کھڑی تھی، پراٹھے بناتے ہوئے، جب سعد اندر آیا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے، ٹی شرٹ چپکی ہوئی، جیسے ابھی بستر سے اٹھا ہو۔ 'علیشا آپی، چائے ملے گی؟' اس نے کہا، لیکن اس کی نظریں میری کمر پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ میں نے مڑ کر اسے گھورا، 'سعد، کیا دیکھ رہے ہو؟ آنکھیں نیچی کرو!' لیکن میرا دل چاہ رہا تھا کہ وہ دیکھے، کہ وہ محسوس کرے جو میں محسوس کرتی ہوں۔
میں جانتی ہوں کہ یہ غلط ہے۔ ہمارے معاشرے میں، ہمارے گھر میں، یہ سوچ بھی گناہ ہے۔ لیکن جب رات کو میں اپنے کمرے میں لیٹی ہوتی ہوں، میرا دماغ سعد کے خیالوں سے بھر جاتا ہے۔ اس کی مضبوط باہیں، اس کی گہری آواز، اور وہ شرارتی مسکراہٹ۔ میں خود کو روکتی ہوں، لیکن میرا جسم بےقابو ہو جاتا ہے۔
دوپہر کو میں نے اسے اس کے کمرے کے پاس سے گزرتے ہوئے دیکھا۔ دروازہ ہلکا سا کھلا تھا، اور میں نے دیکھا کہ وہ... خود کو چھو رہا تھا۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں جانتی تھی کہ وہ کس کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ 'علیشا آپی'، اس کے ہونٹوں سے نکلا، اور میری سانس رک گئی۔ میں وہاں سے بھاگ آئی، لیکن میرا جسم گرم ہو چکا تھا، میری رگیں جل رہی تھیں۔
میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ میں اسے اپنی طرف کھینچوں گی، چاہے اس کے لیے مجھے کتنا ہی کیوں نہ کھیلنا پڑے۔ شام کو میں نے اسے آواز دی، 'سعد، ذرا باتھ روم سے میرا تولیہ لا دو، میں نہا رہی ہوں۔' اس کی آواز میں ہچکچاہٹ تھی، 'آپی، میں... ٹھیک ہے۔' جب وہ آیا، میں نے دروازہ ہلکا سا کھولا، میرا گیلا جسم صرف ایک پتلی چادر میں چھپا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ 'یہ لو، اور کیا دیکھ رہے ہو؟ شرم نہیں آتی؟' میں نے ڈانٹا، لیکن میری آواز میں ایک ہلکی سی ہنسی تھی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور وہ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔
یہ صرف شروعات ہے۔ میں جانتی ہوں کہ وہ بھی مجھے چاہتا ہے، چاہے وہ اسے مانے یا نہ مانے۔ ہر روز، ہر لمحے، میں اسے اپنی طرف کھینچتی جاؤں گی۔ کبھی اس کے سامنے جھک کر کچھ اٹھاؤں گی، کبھی اس کے قریب سے گزروں گی تاکہ میرا جسم اسے چھو جائے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ وہ میرے قریب آئے، میری طرف دیکھے، اور پھر... پھر وہ لمحہ آئے گا جب ہم دونوں اس آگ میں جل جائیں گے۔
آج رات، جب گھر ساکت ہے، میں اپنے کمرے میں لیٹی ہوں، اور میرا جسم بےچین ہے۔ میں جانتی ہوں کہ سعد بھی سو نہیں رہا۔ شاید وہ بھی میری طرح اسی آگ میں جل رہا ہے۔ جلد ہی، ہم دونوں اس آگ کو بھڑکائیں گے، اور پھر کوئی روک نہیں پائے گا۔
Want to know how it ends?
This is just the opening chapter. Continue the saga — or write a steamy tale starring you.